شادی کے بعد گھر کے بنیادی اخراجات پورے کرنا صرف اس لیے بیوی کی ذمہ داری نہیں بن جاتے کہ وہ بھی کماتی ہے یا کما سکتی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق بیوی اور بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے، اپنی استطاعت اور حالات کے مطابق۔
اگر بیوی اپنی خوشی سے گھر کے اخراجات میں تعاون کرتی ہے تو یہ اس کا تعاون اور احسان ہے، اس کی لازمی ذمہ داری نہیں۔ اسی طرح بیوی کی تنخواہ یا ذاتی مال پر بھی شوہر کا خود بخود حق نہیں بن جاتا۔

کیا کماتی ہوئی بیوی کے اخراجات بھی شوہر پر فرض ہیں؟
میاں بیوی کا باہمی تعاون یقیناً ایک خوبصورت چیز ہے، لیکن تعاون اور ذمہ داری میں فرق سمجھنا ضروری ہے۔ بیوی گھر کے کام، بچوں کی دیکھ بھال اور بہت سی ذہنی و جذباتی ذمہ داریاں بھی نبھاتی ہے، اس لیے اس کے مالی تعاون کو فرض سمجھ کر اس پر دباؤ ڈالنا مناسب نہیں۔
ایک صحت مند ازدواجی رشتے میں مالی معاملات بھی واضح، باعزت اور باہمی سمجھ بوجھ کے ساتھ طے ہونے چاہئیں۔
یاد رکھیں، بیوی کا تعاون اس کا احسان ہے، جبکہ بنیادی نان نفقہ شوہر کی ذمہ داری ہے۔
اگر آپ بھی سمجھتے ہیں کہ میاں بیوی کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کے بارے میں واضح آگاہی ہونی چاہیے تو اس پوسٹ کو ضرور شیئر کریں۔
کمنٹ میں بتائیں: کیا مالی ذمہ داریوں کے بارے میں واضح گفتگو ازدواجی اختلافات کم کر سکتی ہے؟