بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بہو سے کوئی غلطی ہو جائے یا اس سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو اس غلطی کو سب کے سامنے highlight کر دیا جاتا ہے۔ پھر ہر آنے والے شخص کے سامنے اس کی وہی غلطی کو کمزوری بنا کر بیان کیا جاتا ہے۔
“اسے تو یہ بھی نہیں آتا… اس سے تو یہ کام بھی ٹھیک نہیں ہوتا… پتہ نہیں یہ کب سیکھے گی…”
ہم شاید یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ہم اسے اس کی غلطی کا احساس دلا رہے ہیں، لیکن اگر کسی کی غلطی بار بار دوسروں کے سامنے بیان کی جائے تو یہ humiliation ہے۔
ایک نئی بہو جب کسی گھر میں آتی ہے تو اسے نئے ماحول، نئے لوگوں، نئے طریقوں اور نئی ذمہ داریوں کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔ اگر اسے ہر وقت یہ احساس رہے کہ ہر وقت اس پر نظر رکھی جا رہی ہے اور اس کی ہر غلطی گھر سے باہر discuss ہو سکتی ہے تو وہ اس گھر کو اپنا comfort zone کیسے سمجھے گی؟
اس کے ذہن میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے:
یہ میرا گھر نہیں، میرے امتحان کی جگہ ہے۔ یہاں ہر وقت مجھے judge کیا جا رہا ہے۔
وہ کس کام میں کتنی اچھی ہے، کس کام میں کمزور ہے، کون سا کام کتنے وقت میں سیکھنا چاہیے۔ اگر ہر چیز کو مسلسل evaluate کیا جائے تو انسان سیکھنے کے بجائے خود کو بچانے میں لگ جاتا ہے اور یہاں خوف جنم۔لیتا ہے۔
اور یہاں ایک بات سمجھنا بہت ضروری ہے:
بہو کی غلطی پورے خاندان کی خبر کیوں بن جاتی ہے؟
غلطی ایک واقعہ ہے جو کسی سے بھی سرزد ہو سکتی ہے، یہ کسی بھی انسان کی شناخت نہیں ہوتی۔
اگر کسی کام میں کوتاہی ہوئی ہے تو اسے اکیلے میں، عزت کے ساتھ سمجھایا جا سکتا ہے۔ کسی غلطی کی وجہ سے کوئی خاص لیبل۔لگا دینا یا بار بار دوسروں کے سامنے دہرانا ضروری نہیں۔

کیونکہ جب ہم اپنی بہو کی بات گھر سے باہر کرتے ہیں تو ہم صرف ایک شکایت شئیر نہیں کر رہے ہوتے، ہم دوسروں کو اپنے گھر میں مداخلت کی اجازت دے رہے ہوتے ہیں۔ اسکا انجام صرف تباہی ہے۔
پھر لوگ چسکے لینے لگتے ہیں:
کیا ہوا؟
کس نے کیا؟
گھر میں کیا چل رہا ہے؟
وہ کیا کرتی ہے؟
گھر کا کام ہوا یا نہیں ہوا؟
اور یوں ایک چھوٹی سی گھر کی بات آہستہ آہستہ پورے خاندان میں زیر بحث بن جاتی ہے۔
اس لیے اگر بہو سے کوئی غلطی ہو جائے تو اسے سب کے سامنے شرمندہ کرنے کے بجائے علیحدگی میں سمجھانا بہتر رہتا ہے، اسے سیکھنے کا وقت دیں اور اس کی عزت محفوظ رکھیں۔
یاد رکھیں، shame انسان میں مثبت تبدیلی نہیں لے کے اتی، بلکہ emotional safety اور مثبت تنقید انسان کو سیکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
ایک محفوظ گھر وہ نہیں جہاں کوئی غلطی ہی نہ کرسکے، بلکہ محفوظ گھر وہ ہے جہاں غلطی ہونے کے بعد بھی انسان اپنی عزت اور تعلق دونوں محفوظ محسوس کرے۔
ماہر نفسیات
منزہ فاطمہ