← تمام مضامین
اردو3 min readSeptember 3, 2026

“28 سال کا مگر آج بھی ‘چھوٹا'”

28 سال کا مگر آج بھی ‘چھوٹا!

ایک دوست کے بیٹے نے میڈیکل چھوڑ کر بزنس پڑھنے کا سوچا۔ یہ اس کا اپنا فیصلہ نہیں تھا۔ گھر بیٹھ کر بحث ہوئی، بڑے بھائی نے کہا “نہیں، ڈاکٹری میں عزت ہے، یہی پڑھو۔” ابو نے کہا “بھائی کی بات مانو، وہ دنیاداری کو زیادہ سمجھتا ہے۔”

اور وہ 22,23 سالہ لڑکا، جو خود اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کی عمر کو کب کا پار کر چکا تھا، ایک بار پھر خاموشی سے سر جھکا کر وہی کیا ، جو اسے کہا گیا۔

نہ کوئی اسے یہ سوچنے کا موقع دیتا ہے کہ وہ خود کیا چاہتا ہے، نہ کوئی اسے اپنی غلطی کر کے سیکھنے دیتا ہے۔

عجیب بات یہ ہے کہ یہی گھر والے اسے ووٹ ڈالنے، شادی کی رسمیں نبھانے، اور کمانے کی ذمہ داری تو “بڑا” سمجھ کر سونپ دیتے ہیں۔

مگر

جب بات آتی ہے تعلیم، کیریئر، یا جاب کے فیصلے کی، تو وہی شخص اچانک گھر والوں کی نظر میں “بچہ” بن جاتا ہے جسے سمجھ نہیں۔ یہ تضاد بہت گہرا ہے۔

بطور ماہر نفسیات میں یہ بات بار بار دیکھتی ہوں کہ جو نوجوان اپنی تعلیم یا کیریئر کا فیصلہ خود نہیں لے پاتے، وہ برسوں بعد بھی اس فیصلے پر ناراضگی پالے رکھتے ہیں۔ ان کے دل میں یہ رنج کسی کونے میں رہ جاتا ہے کہ

“کاش مجھے میڈیکل نہ کروایا جاتا”، “کاش میں وہ جاب کر لیتا جو میں چاہتا تھا۔” یہ ناراضگی کبھی ختم نہیں ہوتی، کیونکہ یہ کسی اور کے فیصلے کا بوجھ ہے جو وہ ساری زندگی اٹھاتا ہے۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم عمر کا ایک عجیب پیمانہ بنا لیتے ہیں۔ گھر میں جو “چھوٹا” ایک بار کہلایا جائے، وہ ہمیشہ کے لیے چھوٹا ہی رہ جاتا ہے، چاہے وہ 30 سال کا کیوں نہ ہو جائے۔

حالانکہ شخصیت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب انسان اپنے فیصلے خود کرے، ناکام ہو، اور دوبارہ کوشش کرے۔ اگر ہم ہر بار اس کے فیصلے اس کی جگہ خود کرنے لگی، تو ہم دراصل اس کی شخصیت بننے کا موقع ہی چھین رہے ہیں۔ ہم اس کی شخصیت سازی میں سب سے بڑی رکاوٹ خود بن رہے ہیں۔ کیسے ممکن ہے کہ وہ بچہ جس سے گھر سے confidence نہیں ملا وہ دنیا میں اپنے حساب سے survive کر سکے۔

28 سال کا مگر آج بھی 'چھوٹا

28 سال کا مگر آج بھی ‘چھوٹا

تو اگلی بار جب گھر میں کسی “چھوٹے” کی تعلیم یا کیریئر کا فیصلہ ہو رہا ہو ، پوچھیں، مشورہ دیں، مگر فیصلہ اسے خود کرنے دیں۔

اگر آپ کے گھر میں بھی کسی بالغ فرد کے فیصلے بار بار اس کی جگہ کیے جاتے ہیں تو اس تحریر کو ضرور پڑھیں اور شیئر کریں۔

کسی کی رہنمائی کریں، مگر اس کی زندگی کے فیصلے اس سے نہ چھینیں۔

آپ کی رائے میں والدین کو بچوں کو خود فیصلے کرنے کی

آزادی کب دینی چاہیے؟ کمنٹ میں ضرور بتائیں۔

#منزہ_فاطمہ

#ماہر_نفسیات

MF
مصنف

Munazzah Fatima

Book a Consultation